گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ – عوام کی مشکلات میں شدت
پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر نے عوام کو سخت پریشان کر دیا ہے۔ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت میں حیران کن اضافہ ہر گھر کے بجٹ پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ چاہے لاہور کی مارکیٹ ہو، کراچی کی کوکنگ آئل ریٹ لسٹ یا پشاور کے خوردنی تیل کے نرخ، ہر جگہ صارفین مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں ہم تازہ مارکیٹ ریٹس، عوامی ردعمل اور حکومت کی پالیسیوں پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔
گھی اور کوکنگ آئل کی تازہ قیمتیں
مارکیٹ ذرائع کے مطابق:
-
لاہور میں سبزی گھی ریٹ لسٹ کے مطابق ایک کلو گھی 650 روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
-
کراچی میں کوکنگ آئل مارکیٹ ریٹ 620 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا۔
-
اسلام آباد اور راولپنڈی میں یوٹیلٹی اسٹورز گھی کی قیمت قدرے کم ہے مگر اسٹاک کی کمی بڑا مسئلہ ہے۔
-
پشاور، فیصل آباد اور ملتان میں خوردنی تیل کی قیمت میں 20 سے 30 روپے فی لیٹر اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ تیل اور گھی کی نئی قیمتیں صرف شہری نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی ایک بحران کھڑا کر رہی ہیں۔
مہنگائی اور عوامی مشکلات
روزمرہ اشیائے خوردونوش میں اضافے نے عام گھرانوں کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ راشن آئٹمز کی قیمتیں خصوصاً گھی اور تیل میں اضافے کی وجہ سے گھریلو خواتین پریشان ہیں کہ محدود آمدنی میں کھانے پکانے کے اخراجات کیسے پورے ہوں۔
صارفین کی آراء
-
"گھی مہنگا ہو گیا ہے، اب عام دال یا سبزی بھی پکانا مشکل ہے” (فیصل آباد کی ایک خاتون صارفہ)
-
"یوٹیلٹی اسٹورز پر سستا گھی ملتا ہے مگر اکثر دستیاب ہی نہیں ہوتا” (کراچی کے ایک صارف)
حکومت اور بجٹ کے اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ بجٹ میں دی گئی سبسڈی محدود ہونے کے باعث عوامی بجٹ اور گھی کی قیمت کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ چند ماہ میں گھی اور تیل مارکیٹ اپ ڈیٹ مزید بوجھ ڈال سکتی ہے۔
گھریلو صارفین کے لیے تجاویز
-
چھوٹے پیکٹ خریدیں تاکہ خرچ کو کنٹرول کیا جا سکے۔
-
یوٹیلٹی اسٹورز سے خریداری کریں جہاں قیمتیں نسبتاً کم ہیں۔
-
کھانے پکانے کے طریقوں میں تبدیلی لائیں، جیسے بھاپ یا اُبالے جانے والے کھانے استعمال کریں تاکہ تیل کا استعمال کم ہو۔
مہنگائی کا بحران اور مستقبل
ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو مہنگائی کا بحران کوکنگ آئل کے بعد دیگر اشیاء کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ صارفین پر مہنگائی کا بوجھ بڑھنے سے متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔