مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کا بیان: گندم و آٹے کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ "مذاق نہیں”

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کا بیان: گندم و آٹے کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ "مذاق نہیں”

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کا حالیہ بیان عوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ معاشی حقیقت ہے۔ اس بیان نے نہ صرف عوامی سطح پر تشویش پیدا کی بلکہ حکومت کی پالیسیوں اور فوڈ سیکٹر کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں مہنگائی کی تازہ صورتحال

گزشتہ چند ماہ میں خیبر پختونخوا فوڈ مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق پشاور، مردان اور سوات جیسے بڑے شہروں میں آٹے کی قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ چکی ہیں۔ شہری شکایت کرتے ہیں کہ آٹا ریٹ پشاور آج اوسط آمدنی والے طبقے کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف روزمرہ اخراجات پر دباؤ ڈالتا ہے بلکہ غربت کی شرح میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

آٹا و گندم بحران کے اسباب

ماہرین کے مطابق گندم بحران پشاور اور دیگر شہروں میں تین بنیادی عوامل کی وجہ سے سامنے آیا ہے:

  • عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ

  • روپے کی قدر میں کمی

  • ذخیرہ اندوزی اور مقامی مارکیٹ میں سپلائی چین کی کمزوریاں

یہ تمام عوامل مل کر خوراک کی دستیابی اور قیمتوں کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔

حکومت کی مہنگائی پالیسی اور اقدامات

مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے سستا آٹا اسکیم خیبر پختونخوا کو فعال کرنے جا رہی ہے۔ تاہم اپوزیشن اور عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات وقتی ہیں اور مستقل بنیادوں پر حکومت خیبر پختونخوا مہنگائی پالیسی کو جامع بنانے کی ضرورت ہے۔

عوامی ردعمل اور معاشی بحران

  • عوامی سطح پر ردعمل کافی شدید ہے۔

  • شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گندم اور آٹے کی تازہ قیمتیں ان کے گھریلو بجٹ کو مکمل طور پر متاثر کر رہی ہیں۔

  • مہنگائی کی وجہ سے نہ صرف متوسط طبقہ دباؤ میں ہے بلکہ غریب طبقہ بھی بنیادی خوراک کی فراہمی کے لیے مشکلات کا شکار ہے۔

  • یہ صورتحال واضح طور پر پاکستان معاشی بحران اور خوراک کی قیمتیں کے سنگین پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔

نتیجہ اور مستقبل کے امکانات

واضح ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ عوام کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی پیداوار بڑھانے، درآمدی انحصار کم کرنے اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ بصورت دیگر خوراک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ مستقبل قریب میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Leave a Comment